سورة الأحقاف
باب 46 | 35 آیات
ترجمہ: فتح محمد جالندھری
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
حمٓ
Haa-Meeeem
ح م
تَنزِيلُ ٱلْكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ
Tanzeelul Kitaabi minal laahil-'Azeezil Hakeem
اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔
مَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَمَّآ أُنذِرُوا۟ مُعْرِضُونَ
Maa khalaqnas samaawaati wal arda wa maa bainahumaaa illaa bilhaqqi wa ajalim musammaa; wallazeena kafaroo 'ammaaa unziroo mu'ridoon
ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مگر یہ کافر لو گ اُس حقیقت سے مُنہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبر دار کیا گیا ہے۔
قُلْ أَرَءَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِى مَاذَا خَلَقُوا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌۭ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ ۖ ٱئْتُونِى بِكِتَٰبٍۢ مِّن قَبْلِ هَٰذَآ أَوْ أَثَٰرَةٍۢ مِّنْ عِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
Qul ara'aytum maa tad'oona min doonil laahi aroonee maazaa khalaqoo minal ardi am lahum shirkun fis samaawaati eetoonee bi kitaabim min qabli haazaaa aw asaaratim min 'ilmin in kuntum saadiqeen
اے نبی ؐ ، اِن سے کہو”کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکار تے ہو؟ ذرا مجھے دکھاوٴ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصّہ ہے۔ اِس سے پہلے آئی ہوئی کوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیّہ (اِن عقائد کے ثبوت میں)تمہارے پاس ہو تو وہی لے آوٴ اگر تم سچے ہو۔“
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَٰفِلُونَ
Wa man adallu mimmany yad'oo min doonil laahi mallaa yastajeebu lahooo ilaa Yawmil Qiyaamati wa hum'an du'aaa'ihim ghaafiloon
آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پُکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں ،
وَإِذَا حُشِرَ ٱلنَّاسُ كَانُوا۟ لَهُمْ أَعْدَآءًۭ وَكَانُوا۟ بِعِبَادَتِهِمْ كَٰفِرِينَ
Wa izaa hushiran naasu kaanoo lahum a'daaa'anw wa kaanoo bi'ibaadatihim kaafireen
اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٍۢ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ هَٰذَا سِحْرٌۭ مُّبِينٌ
Wa izaa tutlaa 'alaihim Aayaatunaa baiyinaatin qaalal lazeena kafaroo lilhaqqi lammaa jaaa'ahum haazaa sihrum mubeen
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ کہ تو کھُلا جادو ہے۔
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ إِنِ ٱفْتَرَيْتُهُۥ فَلَا تَمْلِكُونَ لِى مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ ۖ كَفَىٰ بِهِۦ شَهِيدًۢا بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۖ وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
Am yaqooloonaf taraahu qul inif taraituhoo falaa tamlikoona lee minal laahi shai'an Huwa a'lamu bimaa tufeedoona feehi kafaa bihee shaheedam bainee wa bainakum wa Huwal Ghafoorur Raheem
کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسُول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ اِن سے کہو ”اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہواللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔“
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًۭا مِّنَ ٱلرُّسُلِ وَمَآ أَدْرِى مَا يُفْعَلُ بِى وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ وَمَآ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌۭ
Qul maa kuntu bid'am minal Rusuli wa maaa adreee ma yuf'alu bee wa laa bikum in attabi'u illaa maa yoohaaa ilaiya ya maaa ana illaa nazeerum mubeen
اِن سے کہو”،میں کوئی نرالا رسُول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا، میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہوں۔“
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَكَفَرْتُم بِهِۦ وَشَهِدَ شَاهِدٌۭ مِّنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِۦ فَـَٔامَنَ وَٱسْتَكْبَرْتُمْ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ
Qul ara'aytum in kaana min 'indil laahi wa kafartum bihee wa shahida shaahidum mim Banee Israaa'eela 'alaa mislihee fa aamana wastak bartum innal laaha laa yahdil qawmaz zaalimeen
اے نبی ؐ ، ان سے کہو”کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم نے اِس کا انکار کر دیا(تو تمہارا کیا انجام ہو گا)؟ اور اِس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔“
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَوْ كَانَ خَيْرًۭا مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِ ۚ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا۟ بِهِۦ فَسَيَقُولُونَ هَٰذَآ إِفْكٌۭ قَدِيمٌۭ
Wa qaalal lazeena kafaroo lillazeena aamanoo law kaana khairam maa sabaqoonaaa ilyh; wa iz lam yahtadoo bihee fasa yaqooloona haazaaa ifkun qadeem
جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے۔ چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پُرانا جھُوٹ ہے۔
وَمِن قَبْلِهِۦ كِتَٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامًۭا وَرَحْمَةًۭ ۚ وَهَٰذَا كِتَٰبٌۭ مُّصَدِّقٌۭ لِّسَانًا عَرَبِيًّۭا لِّيُنذِرَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ وَبُشْرَىٰ لِلْمُحْسِنِينَ
Wa min qablihee kitaabu Moosaaa imaamanw-wa rahmah; wa haazaa Kitaabum musad diqul lisaanan 'Arabiyyal liyunziral lazeena zalamoo wa bushraa lilmuhsineen
حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زباِنِ عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبّہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے
إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَٰمُوا۟ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
Innal lazeena qaaloo Rabbunal laahu summas taqaamoo falaa khawfun 'alaihim wa laahum yahzanoon
یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا ربّ ہے ، پھر اُس پر جم گئے ، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
Ulaaa'ika Ashabul Jannati khaalideena feehaa jazaaa'am bimaa kaano ya'maloon
ایسے سب لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں
وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ إِحْسَٰنًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ كُرْهًۭا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًۭا ۖ وَحَمْلُهُۥ وَفِصَٰلُهُۥ ثَلَٰثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةًۭ قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَٰلِحًۭا تَرْضَىٰهُ وَأَصْلِحْ لِى فِى ذُرِّيَّتِىٓ ۖ إِنِّى تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ
Wa wassainal insaana biwaalidaihi ihsaanan hamalathu ummuhoo kurhanw-wa wada'athu kurhanw wa hamluhoo wa fisaaluhoo salaasoona shahraa; hattaaa izaa balagha ashuddahoo wa balagho arba'eena sanatan qaala Rabbi aqzi'neee an ashkura ni'matakal lateee an'amta 'alaiya wa 'alaa waalidaiya wa an a'mala saalihan tardaahu wa aslih lee fee zurriyyatee innee tubtu ilaika wa innee minal muslimeen
ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاوٴ کرے۔ اُس کی ماں نے مشقّت اُٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقُت اُٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل اور دُودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پُوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو اُس نے کہا”اے میرے ربّ ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تُو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تُو راضی ہو، اور میری اولاد کو بھی نیک بناکر مجھے سُکھ دے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم)بندوں میں سے ہوں۔“
أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا۟ وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّـَٔاتِهِمْ فِىٓ أَصْحَٰبِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ ٱلصِّدْقِ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ
Ulaaa'ikal lazeena nata qabbalu 'anhum ahsana maa 'amiloo wa natajaawazu 'an saiyiaatihim feee Ashaabil jannati Wa'das sidqil lazee kaanoo yoo'adoon
اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی بُرائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنّتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے
وَٱلَّذِى قَالَ لِوَٰلِدَيْهِ أُفٍّۢ لَّكُمَآ أَتَعِدَانِنِىٓ أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ ٱلْقُرُونُ مِن قَبْلِى وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ ٱللَّهَ وَيْلَكَ ءَامِنْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ فَيَقُولُ مَا هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ
Wallazee qaala liwaali daihi uffil lakumaaa ata'idanineee an ukhraja wa qad khalatil quroonu min qablee wa humaa yastagheesaanil laaha wailaka aamin inna wa'dal laahi haqq, fa yaqoolu maa haazaaa illaaa asaateerul awwaleen
اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا "اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اٹھ کر نہ آیا)" ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں "ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے" مگر وہ کہتا ہے "یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"
أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ خَٰسِرِينَ
Ulaaa'ikal lazeena haqqa 'alaihimul qawlu feee umamin qad khalat min qablihim minal jinni wal insi innahum kaanoo khaasireen
یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہے۔ اِن سے پہلے جِنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اِسی قماش کے)ہو گزرے ہیں اُنہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بے شک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں۔
وَلِكُلٍّۢ دَرَجَٰتٌۭ مِّمَّا عَمِلُوا۟ ۖ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَٰلَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
Wa likullin darajaatum mimmaa 'amiloo wa liyuwaf fiyahum a'maalahum wa hum laa yuzlamoon
دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پُورا پُورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا۔
وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَٰتِكُمْ فِى حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنْيَا وَٱسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ ٱلْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ
Wa Yawma yu'radul lazeena kafaroo 'alan Naai azhabtum taiyibaatikum fee hayaatikumud dunyaa wastam ta'tum bihaa fal Yawma tujzawna 'azaabal hooni bimaa kuntum tastakbiroona fil ardi bighairil haqqi wa bimaa kuntum tafsuqoon
پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لاکھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا”تم اپنے حصّے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لُطف تم نے اُٹھا لیا، اب جو تکبّر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُں کی پاداش میں آج تم کو ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔“
۞ وَٱذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُۥ بِٱلْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ ٱلنُّذُرُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦٓ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ
Wazkur akhaa 'Aad, iz anzara qawmahoo bil Ahqaafi wa qad khalatin nuzuru mim baini yadaihi wa min khalfiheee allaa ta'budooo illal laaha inneee akhaafu 'alaikum 'azaaba Yawmin 'azeem
ذرا اِنھیں عاد کے بھائی (ہُود ؑ)کا قصّہ سُناوٴ جبکہ اُس نے اَحْقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔۔۔۔اور ایسے خبردار کرنے والا اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اس کے بعد بھی آتے رہے۔۔۔۔ کہ ”اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔“
قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ ءَالِهَتِنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
Qaaloo aji'tanaa litaa fikanaa 'an aalihatinaa faatinaa bimaa ta'idunaaa in kunta minas saadiqeen
انہوں نے کہا "کیا تو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے؟ اچھا تو لے آ اپنا وہ عذاب جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے"
قَالَ إِنَّمَا ٱلْعِلْمُ عِندَ ٱللَّهِ وَأُبَلِّغُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦ وَلَٰكِنِّىٓ أَرَىٰكُمْ قَوْمًۭا تَجْهَلُونَ
Qaala innamal 'ilmu indal laahi wa uballighukum maaa uriltu bihee wa laakinneee araakum qawman tajhaloon
اُس نے کہاکہ”اِس کا علم تو اللہ کو ہے، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔“
فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًۭا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا۟ هَٰذَا عَارِضٌۭ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا ٱسْتَعْجَلْتُم بِهِۦ ۖ رِيحٌۭ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
Falammaa ra awhu 'aaridam mustaqbila awdiyatihim qaaloo haazaa 'aaridum mumtirunaa; bal huwa masta'jaltum bihee reehun feehaa 'azaabun aleem
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگو”یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا۔“۔۔۔۔ ”نہیں، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے
تُدَمِّرُ كُلَّ شَىْءٍۭ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأَصْبَحُوا۟ لَا يُرَىٰٓ إِلَّا مَسَٰكِنُهُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَ
Tudammiru kulla shai'im bi-amri Rabbihaa fa asbahoo laa yuraaa illaa masaakinuhum; kazaalika najzil qawmal mujrimeen
اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا۔“ آخر کار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔
وَلَقَدْ مَكَّنَّٰهُمْ فِيمَآ إِن مَّكَّنَّٰكُمْ فِيهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًۭا وَأَبْصَٰرًۭا وَأَفْـِٔدَةًۭ فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ أَبْصَٰرُهُمْ وَلَآ أَفْـِٔدَتُهُم مِّن شَىْءٍ إِذْ كَانُوا۟ يَجْحَدُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
Wa laqad makkannaahum feemaaa im makkannaakum feehi waj'alnaa lahum sam'anw wa absaaranw wa af'idatan famaaa aghnaa 'anhum samu'uhum wa laaa absaaruhum wa laaa af'idatuhum min shai'in iz kaanoo yajhadoona bi Aayaatil laahi wa haaqa bihim maa kaanoo bihee yastahzi'oon
اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
Wa laqad ahlaknaa ma hawlakum minal quraa wa sarrafnal Aayaati la'allahum yarji'oon
تمہارے گرد و پیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے اُن کو سمجھایا، شاید کہ وہ باز آ جائیں
فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ قُرْبَانًا ءَالِهَةًۢ ۖ بَلْ ضَلُّوا۟ عَنْهُمْ ۚ وَذَٰلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
Falaw laa nasarahumul lazeenat takhazoo min doonil laahi qurbaanan aalihatam bal dalloo 'anhum' wa zaalika ifkuhum wa maa kaanoo yaftaroon
پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرّب اِلی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبُود بنا لیا تھا؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُں کے جھُوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
وَإِذْ صَرَفْنَآ إِلَيْكَ نَفَرًۭا مِّنَ ٱلْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقُرْءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓا۟ أَنصِتُوا۟ ۖ فَلَمَّا قُضِىَ وَلَّوْا۟ إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ
Wa iz sarafinaaa ilaika nafaram minal jinni yastami'oonal Quraana falammaa hadaroohu qaalooo ansitoo falammaa qudiya wallaw ilaa qawmihim munzireen
(اور وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے)جب ہم جِنّوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سُنیں۔ جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے)تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاوٴ۔ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے
قَالُوا۟ يَٰقَوْمَنَآ إِنَّا سَمِعْنَا كِتَٰبًا أُنزِلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ
Qaaloo yaa qawmanaaa innaa sami'naa Kitaaban unzila mim ba'di Moosa musaddiqal limaa baina yadihi yahdeee ilal haqqi wa ilaa Tareeqim Mustaqeem
انہوں نے جا کر کہا”اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سُنی ہے جو موسیٰ ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہِ راست کی طرف۔
يَٰقَوْمَنَآ أَجِيبُوا۟ دَاعِىَ ٱللَّهِ وَءَامِنُوا۟ بِهِۦ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍۢ
Yaa qawmanaaa ajeeboo daa'iyal laahi wa aaminoo bihee yaghfir lakum min zunoobikum wa yujirkum min 'azaabin aleem
اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بُلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آوٴ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذابِ الیم سے بچا دے گا۔“
وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِىَ ٱللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُۥ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءُ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ
Wa mal laa yujib daa'iyal laahi falaisa bimu'jizin fil ardi wa laisa lahoo min dooniheee awliyaaa'; ulaaa ika fee dalaalim mubeen
اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زِچ کر دے، اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچالیں۔ ایسے لوگ کھُلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْۦِىَ ٱلْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ
Awalam yaraw annal laahal lazee khalaqas samaawaati wal larda wa lam ya'ya bikhal qihinna biqaadirin 'alaaa anyyuhiyal mawtaa; balaaa innahoo 'alaa kulli shai'in Qadeer
اور کیا اِن لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جلا اٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے
وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَلَيْسَ هَٰذَا بِٱلْحَقِّ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
Wa Yawma yu'radul lazeena kafaroo 'alan naari alaisa haaza bil haqq; qaaloo balaa wa Rabbinaa; qaala fazooqul 'azaaba bimaa kuntum takfuroon
جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"
فَٱصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْعَزْمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةًۭ مِّن نَّهَارٍۭ ۚ بَلَٰغٌۭ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْفَٰسِقُونَ
Fasbir kamaa sabara ulul 'azmi minar Rusuli wa laa tasta'jil lahum; ka annahum Yawma yarawna maa yoo'adoona lam yalbasooo illaa saa'atam min nahaar; balaagh; fahal yuhlaku illal qawmul faasiqoon
پس اے نبی ؐ ، صبر کرو جس طرح اُولو العزم رسُولوں نے صبر کیا ہے ، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلا یا جا رہا ہے تو اِنہیں یُوں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دِن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچا د�� گئی ، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا؟