Skip to main content

سورة آل عمران

سورۃ Ali Imran - The Family of Imran

باب 3 | 200 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الف لام میم

2

اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی ، جو نظامِ کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ 1

3

اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ، جو حق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تو رات اور انجیل نازل کر چکا ہے،1

4

اور اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے (جو حق اور باطل کا فرق د کھانے والی ہے) اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں، ان کو یقیناً سخت سزا ملے گی اللہ بے پناہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے

5

زمین اور آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں۔1

6

وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں، جیسی چاہتا ہے، بناتا ہے۔1 اُس زبر دست حکمت والے کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے

7

وہی خدا ہے، جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں: ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں1 اور دُوسری متشابہات2۔ جن لوگوں کو دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اُن کو معنی پہنانے کی کو شش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلااِ س کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”ہمارا اُن پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں۔3“ اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں

8

وہ اللہ سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ: "پروردگار! جب تو ہمیں سیدھے رستہ پر لگا چکا ہے، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر دیجیو ہمیں اپنے خزانہ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاض حقیقی ہے

9

پروردگار! تو یقیناً سب لوگوں کو ایک روز جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں تو ہرگز اپنے وعدے سے ٹلنے والا نہیں ہے"

10

جن لوگو ں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ہے،1 انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ اُن کا مال کچھ کام دے گا، نہ اولاد۔ وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے

11

اُن کا انجام ویسا ہی ہوگا، جیسا فرعون کے ساتھیوں اور اُن سے پہلے کے نافرمانوں کا ہو چکا ہے کہ اُنہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

12

پس اے محمدؐ! جن لوگوں نے تمہاری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، اُن سے کہہ دو کہ قریب ہے وہ وقت، جب تم مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور جہنم بڑا ہی برا ٹھکانا ہے

13

تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو ( بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہو ئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دُوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشمِ سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے۔1 مگر (نتیجے نے ثابت کردیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کی چاہتا ہے، مدد کر دیتا ہے۔ دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے۔2

14

لوگوں کے لیے مرغوبات نفس، عورتیں، اولا د، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی او ر زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے، وہ تو اللہ کے پاس ہے

15

کہو: میں تمھیں بتاؤں کہ ان سے زیادہ اچھی چیز کیا ہے؟ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کریں، اُن کے لیے ان کے رب کے پاس باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں انہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل ہو گی، پاکیزہ بیویاں ان کی رفیق ہوں گی 1اور اللہ کی رضا سے وہ سرفراز ہوں گے۔ اللہ اپنے بندوں کے رویّے پر گہری نظر رکھتا ہے۔2

16

یہ وہ لوگ ہیں، جو کہتے ہیں کہ "مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطاؤں سے در گزر فرما اور ہمیں آتش دوزخ سے بچا لے"

17

یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں،1 راستباز ہیں، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں

18

اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے1 اور (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہلِ علم نے بھی دی ہے۔2 وہ انصاف پر قائم ہے۔ اُس زبر دست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے

19

اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔1 اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے اُن لوگوں نے اختیار کیے، جنہیں کتاب دی گئی تھی، اُن کے اِس طرز عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آ جانے کے بعد آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے ایسا کیا 2اور جو کو ئی اللہ کے احکام و ہدایات کی اطاعت سے انکار کر دے، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی

20

اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں، تو ان سے کہو : ”میں نے اور میرے پیرووں نے تو اللہ کے آگے سرتسلیم خم کر دیا ہے۔“ پھر اہل کتاب اور غیر اہلِ کتاب دونوں سے پوچھو: ”کیا تم نے بھی اس کی اطاعت و بندگی قبول کی؟“1 اگر کی تو وہ راہ ِ راست پاگئے ، اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔ آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے

21

جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو نا حق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگو ں کی جان کے درپے ہو جا تے ہیں، جو خلقِ خدا میں سے عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اُٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوشخبری سُنا دو۔1

22

یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دُنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو گئے،1 اور ان کا مددگار کوئی نہیں ہے۔2

23

تم نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصّہ ملا ہے، اُن کا حال کیا ہے؟ اُنہیں جب کتابِ الٰہی کی طرف بُلایا جاتا ہے تاکہ وہ اُن کے درمیان فیصلہ کرے،1 تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلو تہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منہ پھیر جاتا ہے

24

ان کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ”آتش ِ دوزخ تو ہمیں مَس تک نہ کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو بس چند روز“۔1 اُن کے خود ساختہ عقیدوں نے اُن کو اپنے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے

25

مگر کیا بنے گی اُن پر جب ہم انہیں اُس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے؟ اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پورا پورا دے دیا جائیگا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا

26

کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تو جسے چاہے، حکومت دے اور جسے چاہے، چھین لے جسے چاہے، عزت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل کر دے بھلائی تیرے اختیار میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

27

رات کو دن میں پِروتا ہوالے آتا ہے اور دن کو رات میں۔ جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے اور بے جان میں سے جاندار کو۔ اور جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق دیتا ہے۔1

28

مومنین اہل ایمان کو چھوڑکر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں۔ جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرزِ عمل اختیار کر جاؤ۔1 مگر اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔2

29

اے نبیؐ! لوگوں کو خبردار کر دو کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اُسے خواہ تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ بہرحال اسے جانتا ہے، زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اُس کا اقتدار ہر چیز پر حاوی ہے

30

وہ دن آنے والا ہے، جب ہر نفس اپنے کیے کا پھل حاضر پائے گا خواہ اُس نے بھلائی کی ہو یا بُرائی۔ اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دُور ہوتا! اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے1

31

اے نبیؐ! لوگوں سے کہہ دو کہ، "اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میر ی پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے"

32

اُن سے کہو کہ ”اللہ اور رسُول کی اطاعت قبول کر لو“ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں، تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے، جو اس کی اور اس کے رسُول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں۔1

33

اللہ1 نے آدم ؑ اور نوح ؑ اور آلِ ابراھیم ؑ اور آلِ عمران2 کو تمام دُنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی رسالت کے لیے)منتخب کیا تھا

34

یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے، جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔1

35

(وہ اس وقت سُن رہا تھا)جب عمران کی عورت1 کہہ رہی تھی کہ ”میرے پر ور دگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں ، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا۔ میری اس پیشکش کو قبو ل فرما۔ تُو سننے اور جاننے والاہے“۔2

36

پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا ”مالک! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہو گئی ہے۔۔۔۔حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی۔۔۔۔اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔1 خیر ، میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کوشیطانِ مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں“

37

آخر کار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرما لیا۔ اُسے بڑی اچھی لڑکی بناکر اُٹھایا۔ اور زکریّا کو اس کا سرپرست بنادیا۔ زکریا1 جب کبھی اس کے پاس محراب2 میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم ! یہ تیرے پاس کہا ں سے آیا؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے۔ اللہ جسے چاہتاہے بے حساب دیتا ہے

38

یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا”پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر۔ تُو ہی دُعا سننے والا ہے“۔1

39

جواب میں فرشتوں نے آواز دی ، جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہاتھا، کہ”اللہ تجھے یحی1یٰ کی خوشخبری دیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان2 کی تصدیق کرنے والا بن کر آئے گا۔ اس میں سرداری و بزرگی کی شان ہو گی۔ کمال درجہ کا ضابط ہو گا۔ نبّوت سے سرفراز ہو گا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا

40

زکریّا نے کہا”پروردگار!میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہو گا، میں تو بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے“۔ جواب ملا”ایسا ہی ہوگا،1 اللہ جو چاہتا ہےکرتا ہے“

41

عرض کیا مالک! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقرر فرما دے۔کہا”1 نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرو گے(یا نہ کر سکو گے)۔ اِس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہنا“۔2

42

پھر وہ وقت آیا جب مریمؑ سے فرشتوں نے آکر کہا، "اے مریمؑ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چن لیا

43

اے مریمؑ! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ، اس کے آگے سر بسجود ہو، اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا"

44

اے محمد ؐ ! یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کے ذریعہ سے بتا رہے ہیں، ورنہ تم اُس وقت وہاں موجو د نہ تھے جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریم کا سر پرست کون ہو اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے،1 اور نہ تم اس وقت حاضر تھے جب اُن کے درمیان جھگڑا برپا تھا

45

اور جب فرشتوں نے کہا، "اے مریمؑ! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی خوش خبری دیتا ہے اُس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا، دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا، اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا

46

لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، اور وہ ایک مرد صالح ہوگا"

47

یہ سُن کر مریم بولی”پروردگار!میرے ہا ں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا“۔ جواب ملا”ایسا ہی ہوگا،1 اللہ جو چاھتا ہے پیدا کر تا ہے۔ وہ جب کسی کا م کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جا تا ہے“

48

(فرشتوں نے پھر سلسلئہ کلام میں کہا) "اور اللہ اُسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا

49

اور بنی اسرئیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا“۔(اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اس نے کہا) ”میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مُردے کو زندہ کرتا ہوں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرکے رکھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔1

50

اور میں اُس تعلیم و ہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو تو رات میں سے اِس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے۔1 اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔2 دیکھو ، میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

51

اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ، لہٰذا تم اُسی کی بندگی اختیار کرو، یہی سیدھا راستہ ہے“۔1

52

جب عیسٰی نے محسوس کیا کہ بنی اسرئیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا ”کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہو تا ہے“؟ حواریوں1 نے جواب دیا”ہم اللہ کے مدد گار ہیں ،2 ہم اللہ پر ایمان لائے، گواہ رہو کہ ہم مسلم(اللہ کے آگے سرِ اطاعت جھکادینے والے )ہیں

53

مالک! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے"

54

پھر بنی اسرائیل (مسیح کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنے لگے جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے

55

(وہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہی تھی) جب اس نے کہا کہ ”اے عیسٰی !اب میں تجھے واپس لے لوں گا 1 اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے ان سے (یعنی ان کی معیت سے اور ان کے گندے ماحول میں ان کے ساتھ رہنے سے)تجھے پاک کر دوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالا دست رکھوں گا جنھوں نے تیرا انکار کیاہے۔ 2 پھر تم سب کو آخر کار میرے پاس آنا ہے، اس وقت میں ان باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے

56

جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی ہے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزا دوں گا اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے

57

اور جنہوں نے ایمان اور نیک عملی کا رویہ اختیار کیا ہے انہیں اُن کے اجر پورے پورے دے دیے جائیں گے اور خوب جان لے کہ ظالموں سے اللہ ہرگز محبت نہیں کرتا"

58

یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں

59

اللہ کے نزدیک عیسٰی کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہوجا اور وہ ہوگیا۔1

60

یہ اصل حقیقت ہے جو تمہارے رب کی طرف سے بتائی جا رہی ہے اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جو اس میں شک کرتے ہیں۔1

61

یہ علم آجانے کے بعد اب جو کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے محمد ؐ!اس سے کہو کہ”آؤ ہم اور تم خود بھی آجا ئیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خدا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ہو“۔1

62

یہ بالکل صحیح واقعات ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خداوند نہیں ہے، اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظام عالم میں کار فرما ہے

63

پس اگر یہ لوگ (اِس شرط پر مقابلہ میں آنے سے) منہ موڑیں تو (اُن کا مفسد ہونا صاف کھل جائے گا) اور اللہ تو مفسدوں کے حال سے واقف ہی ہے

64

کہو، 1”اے اہل کتاب! آؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔2 یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے“۔۔۔۔ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو۔ ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے )ہیں

65

اے اہل کتاب! تم ابراہیمؑ کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ تورات اور انجیل تو ابراہیمؑ کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

66

تم1 لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے ہو ان میں تو خوب بحثیں کر چکے، اب ان معاملات میں کیوں بحث کرےچلے ہو جن کا تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے

67

ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی ، بلکہ وہ تو ایک مسلم ِ یکسُو تھا1 اور وہ ہر گز مشرکوں میں سے نہ تھا

68

ابراہیمؑ سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو اُن لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور اس کے ماننے والے اِس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں اللہ صرف اُنہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہوں

69

(اے ایمان لانے والو) اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹا دے، حالانکہ در حقیقت وہ اپنے سوا کسی کو گمرا ہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے

70

اے اہل کتاب! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کر رہے ہو؟1

71

اے اہل کتاب! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو؟

72

اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہےکہ اس کےنبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صحیح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کردو، شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھر جائیں۔1

73

نیز یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو۔ اے نبی! ان سے کہہ دو کہ”اصل میں ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور یہ اُسی کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا، یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے تمہارے خلاف قوی حجّت مل جائے“۔ اے نبیؐ ! ان سے کہو کہ ”فضل و شرف اللہ کے اختیار میں ہے ، جسے چاہے عطا فرمائے۔ وہ وسیع النظر ہے1 اور سب کچھ جانتا ہے،2

74

اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے"

75

اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیربھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا اِلّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتےہیں ”اُمّیوں (غیر یہودی لوگوں) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے“۔1 اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے، آخر کیوں ان سے باز پرس نہ ہو گی؟

76

جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا، کیونکہ پرہیز گار لوگ اللہ کو پسند ہیں

77

رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصّہ نہیں، اللہ قیامت کے روز نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا،1 بلکہ ان کےلیے تو سخت درد ناک سزا ہے

78

ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا اُلٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے، حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی،1 وہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہی�� یہ خدا کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا، وہ جا ن بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں

79

کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرما ئے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم میرے بندے بن جاؤ۔ وہ تو یہی کہے گاکہ سچّےربّانی بنو1 جیسا کہ اس کتاب کی تعلیم کا تقا ضا ہے جسے تم پڑھتے اور پڑھا تےہو

80

وہ تم سے ہرگز یہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کواپنا رب بنا لو، کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جب کہ تم مسلم ہو؟1

81

یاد کرو ، اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ”آج ہم نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے، کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اسی تعلیم کی تصدیق کر تا ہو ا آئےجو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے، تو تم کو اس پر ایمان لانا ہو گا اور اس کی مدد کرنی ہو گی“۔1 یہ ارشاد فرما کر اللہ نے پوچھا”کیا تم اس کا اقرا ر کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمّہ داری اٹھاتے ہو؟“ انہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ”اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں

82

اس کے بعد جو اپنے عہد سے پھر جائے وہی فاسق ہے۔1

83

اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطا عت کے طریقہ (دینُُ اللہ) کوچھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چارو ناچاراللہ ہی کے تابع فرمان(مسلم)ہیں1 اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے؟

84

اے نبی ؐ!کہو کہ اللہ کو مانتے ہیں، اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، ان تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراھیم ؑ،اسماعیل ؑ، اسحاق ؑ، یعقوب ؑ اور اولاد یعقوب ؑ پر نازل ہوئی تھیں، اور ان ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰؑ اور عیسٰیؑ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے 1اور ہم اللہ کے تابع فرمان(مسلم)ہیں

85

اس فرماں برداری (اسلام) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا

86

کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمتِ ایمان پا لینے کے بعد پھر کفر اختیار کیا حالانکہ وہ خود اس بات پر گواہی دے چکے ہیں کہ یہ رسول حق پر ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں بھی آچکی ہیں۔1 اللہ ظالموں کو تو ہدایت نہیں دیا کرتا

87

ان کے ظلم کا صحیح بدلہ یہی ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے

88

اِسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کی سزا میں تخفیف ہوگی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی

89

البتہ وہ لوگ بچ جائیں گے جو اِس کے بعد توبہ کر کے اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

90

مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے1 ان کی توبہ بھی قبو ل نہ ہو گی، ایسے لوگ تو پکّے گمراہ ہیں

91

یقین رکھو، جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں جان دی اُن میں سے کوئی اگر اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں دے تو اُسے قبول نہ کیا جائے گا ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا تیار ہے اور و ہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے

92

تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں)خرچ نہ کر دو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو،1 اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا

93

کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعتِ محمد ؐ ی میں حلال ہیں)بنی اسرئیل کے لیے بھی حلال تھیں،1 البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنھیں تورات کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل2 نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ ان سے کہو، اگر تم (اپنے اعتراض میں)سچّے ہو تو لاؤ تورات اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت

94

اس کے بعد بھی جولو گ اپنی جھوٹی گھڑی ہوئی باتیں اللہ کی طرف منسوب کرتے رہیں و ہی در حقیقت ظالم ہیں

95

کہو، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے،تم کو یکسُو ہو کر ابراہیم ؑ کے طریقہ کی پیروی کرنی چاہیے، اور ابراہیم ؑ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا۔1

96

بے شک سب سے پہلی عبادت گا ہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکّہ میں واقع ہے۔ اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت بنایا گیا تھا۔ 1

97

اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں،1 ابراہیم ؑ کا مقام عبادت ہے، اور اس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا مامون 2ہوگیا۔ لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیر وی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جا نا چاہیے کہ اللہ تما م دنیا والوں سے بے نیاز ہے

98

کہو، اے اہل کتاب! تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو؟ جو حرکتیں تم کر رہے ہو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے

99

کہو، اے اہل کتاب! یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اُسے بھی تم اللہ کے راستہ سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے، حالانکہ تم خود (اس کے راہ راست ہونے پر) گواہ ہو تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے

100

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے اِن اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے

101

تمہارے لیے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے جب کہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسولؐ موجود ہے؟ جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا

102

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔1

103

سب مل کر اللہ کی رسی 1کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے،اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔2 اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارےسامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے۔3

104

تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے

105

کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایا ت پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے۔1 جنھوں نے یہ روش اختیار کی وہ اس روز سخت سزا پائیں گے

106

جبکہ کچھ لوگ سرخ رو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہوگا، جن کا منہ کالا ہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ) نعمت ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا؟ اچھا تو اب اِس کفران نعمت کے صلہ میں عذاب کا مزہ چکھو

107

رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو اُن کو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ وہ اسی حالت میں رہیں گے

108

یہ اللہ کے ارشادات ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں کیو نکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔1

109

زمین و آسمان کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہے اور سارے معاملات اللہ ہی کے حضور پیش ہوتے ہیں

110

اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔1 تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔2 اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایمان دار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں

111

یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستا سکتے ہیں اگر یہ تم سے لڑیں گے تو مقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے، پھر ایسے بے بس ہوں گے کہ کہیں سے اِن کو مدد نہ ملے گی

112

یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مار ہی پڑی ، کہیں اللہ کے ذمّہ یا انسانوں کے ذمّہ میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے،1 یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں، ان پر محتاجی و مغلوبی مسلط کر دی گئی ہے، اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو نا حق قتل کیا۔ یہ ان کی نا فرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے

113

مگر سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اسکے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں

114

اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں یہ صالح لوگ ہیں

115

اور جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی نا قدری نہ کی جائے گی، اللہ پرہیزگار لوگوں کو خوب جانتا ہے

116

رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا تو اللہ کے مقابلہ میں ان کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اور آگ ہی میں ہمیشہ رہیں گے

117

جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنھوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے۔1 اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا درحقیقت یہ خود اپنےاوپر ظلم کر رہے ہیں

118

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھا نے میں نہیں چُوکتے۔1 تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائےہوئے ہیں وہ اس سے شدید ترہے۔ ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتےہو (تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے)

119

تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام کتب ِ آسمانی کو مانتے ہو۔1 جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی (تمہارے رسول اور تمہاری کتاب کو ) مان لیا ہے ، مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غیظ و غضب کا یہ حال ہو تا ہےکہ اپنی انگلیا ں چبانے لگتے ہیں۔۔۔۔ان سے کہہ دو کہ اپنے ��صّہ میں آپ جل مرو، اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

120

تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے، اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس پر حاوی ہے

121

1(اے پیغمبر ؐ! مسلمانوں کے سامنے اس موقع کا ذکر کر و ) جب تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے اور(اُحد کے میدان میں) مسلمانوں کو جنگ کے لیے جا بجا مامور کر رہے تھے۔اللہ ساری باتیں سنتا ہےاور وہ نہات باخبر ہے

122

یاد کرو جب تم میں سے دو گروہ بُزدلی دکھانے پر آمادہ ہو گئے تھے ،1 حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

123

آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کر چکا تھا حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے لہٰذا تم کو چاہیے کہ اللہ کی ناشکر ی سے بچو، امید ہے کہ اب تم شکر گزار بنو گے

124

یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے”کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے“؟۔۔۔۔1

125

بے شک، اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ کر آئیں گے اُسی آن تمہارا رب (تین ہزار نہیں) پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا

126

یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتا دی ہے کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہو جائیں فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا و بینا ہے

127

(اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے، یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہو جائیں

128

(اے پیغمبرؐ) فیصلہ کے اختیارات میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اللہ کو اختیار ہے چاہے انہیں معاف کرے، چاہے سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں

129

زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اس کا مالک اللہ ہے، جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے، وہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔1

130

اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو1 اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے

131

اُس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے مہیا کی گئی ہے

132

اور اللہ اور رسول کا حکم مان لو، توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا

133

دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی

134

جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کر تے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔۔۔۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔۔۔۔1

135

اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو او ر وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے

136

ایسے لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں انہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لیے

137

تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں، زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ اُن لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام و ہدایات کو) جھٹلایا

138

یہ لوگوں کے لیے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہوں اُن کے لیے ہدایت اور نصیحت

139

دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو

140

اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہےتو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔1 یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کو ن ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی(راستی کے) گواہ ہوں۔۔۔۔2 کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں

141

اور وہ اس آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کر دینا چاہتا تھا

142

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں

143

تم تو موت کی تمنائیں کر رہے تھے! مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ، لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی اور تم نے اسے آنکھوں دیکھ لیا۔1

144

محمد ؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں ، پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟1 یا د رکھو! جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انھیں وہ اس کی جز ا دے گا

145

کوئی ذی رُوح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مر سکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے۔1 جو شخص ثواب دنیا کے ارادہ سے کا م کر ے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے، اور جو ثواب آخرت2 کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں3 کو ہم ان کی جزا ضرور عطا کریں گے

146

اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گز ر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ، وہ (باطل کے آگے )سرنگوں نہیں ہوئے۔1 ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے

147

ان کی دعا بس یہ تھی کہ، "اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اُسے معاف کر دے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر"

148

آخرکار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر ثواب آخرت بھی عطا کیا اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں

149

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلو گے جنھوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے1 اور تم نامراد ہو جا ؤ گے

150

(اُن کی باتیں غلط ہیں) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے

151

عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھا دیں گے، اس لیے کہ اُنہوں نے اللہ کے ساتھ اُن کو خدائی میں شریک ٹھیرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو اُن ظالموں کو نصیب ہوگی

152

اللہ نے (تائید ونصرت کا)جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اس نے پورا کر دیا۔ ابتدا میں اس کے حکم سے تم ہی ان کو قتل کر رہےتھے۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے( یعنی مالِ غنیمت)تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے۔۔۔۔اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے۔۔۔۔ تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کردیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا1 کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے

153

یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا ، اور رسول ؐ تمہارے پیچھے تم کو پکار رہاتھا۔ 1اس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے2 تاکہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

154

اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے۔1 مگر ایک دوسرا گروہ ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنے مفادہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلافِ حق تھے، یہ لوگ اب کہتےہیں کہ”اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟“ ان سے کہو”(کسی کا کوئی حصہ نہیں) اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں“۔ دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپاتےہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے، ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ ”اگر(قیادت کے) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے۔“ ان سے کہہ دو کہ”اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے“۔ اور یہ معاملہ جو پیش آیا ، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمارے دلوں میں ہے اسےچھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے

155

تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے اُن کی ا ِس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے اُن کے قدم ڈگمگا دیے تھے اللہ نے انہیں معاف کر دیا، اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے

156

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں(اور وہاں کسی حادثہ سے دو چار ہو جاتے ہیں) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے۔ اللہ اس قوم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت واندوہ کا سبب بنا دیتا ہے ،1 ورنہ دراصل مارنے اور جِلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگراں ہے

157

اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آئے گی وہ اُن ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں

158

اور خواہ تم مرو یا مارے جاؤ بہر حال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے

159

(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے اِن کے قصور معاف کر دو، اِن کے حق میں دعا ئے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے ��ر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں

160

اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

161

کسی نبی کا یہ کام نہیں ہو سکتا کہ وہ خیانت کر جائے۔۔۔۔1 اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہو جائے گا، پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہو گا

162

بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضا پر چلنے والا ہو وہ اُس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گھر گیا ہو اور جس کا آخری ٹھکانا جہنم ہو جو بدترین ٹھکانا ہے؟

163

اللہ کے نزدیک دونوں قسم کے آدمیوں میں بدرجہا فرق ہے اور اللہ سب کے اعمال پر نظر رکھتا ہے

164

درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے

165

اور یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت آپڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی؟1 حالانکہ(جنگ بدر میں)اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں(فریق مخالف پر )پڑ چکی ہے۔2 اے نبی ؐ! ان سے کہو، یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے،3 اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔4

166

جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ لے تم میں سے مومن کون ہیں

167

اور منافق کون۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا کم ازکم(اپنے شہر کی) مدافعت ہی کرو، تو کہنے لگے اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ 1یہ بات جب وہ کہہ رہے تھے اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں، اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسےخوب جانتا ہے

168

یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے او ران کے جو بھائی بند لڑنے گئے اور مارے گئے ان کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ ا گروہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے ان سے کہو اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے اُسے ٹال کر دکھا دینا

169

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں،1 اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں،

170

جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اُس پر خوش وخُرم ہیں ،1 اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کاموقع نہیں ہے

171

وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا

172

جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہا 1 ان میں جو اشخاص نیکو کار اور پرہیز گار ہیں ان کے لیے بڑا اجر ہے

173

اور وہ جن 1سے لوگوں نے کہاکہ”تمہارے خلاف بڑی فوج جمع ہوئی ہیں، ان سے ڈرو“ تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے او ر وہی بہترین کارساز ہے

174

آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے، ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہو گیا، اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے

175

اب تمہیں معلوم ہو گیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہاتھا۔ لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا، مجھ سےڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ِ ایمان ہو۔1

176

(اے پیغمبرؐ) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اُن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے، اور بالآخر ان کو سخت سزا ملنے والی ہے

177

جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر رہے ہیں، اُن کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے

178

یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیے جاتے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بار گناہ سمیٹ لیں، پھر اُن کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے

179

اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم اس وقت پائے جاتے ہو۔1 وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کرکے رہے گا۔ مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تم کو غیب پر مطلع کردے۔2 غیب کی باتیں بتانے کے لیے تووہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کر لیتا ہے، لہٰذا( اُمورِ غیب کے بارے میں) اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو۔ اگر تم ایمان اور خدا ترسی کی روش پر چلو گے تو تم کو بڑا اجر ملے گا

180

جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتےہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ا ن کےلیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے۔ جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے1 اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

181

اللہ نےان لوگوں کاقول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیرہے اور ہم غنی ہیں۔1 ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے ، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامہٴ اعمال میں ثبت ہے۔ ( جب فیصلہ کا وقت آئےگا اس وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ لو، اب عذاب جہنم کا مزا چکھو

182

یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، اللہ اپنے بندوں کے لیے ظالم نہیں ہے

183

جو لوگ کہتے ہیں”اللہ نےہم کو ہدایت کر دی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے(غیب سے آکر) آگ کھا لے“، ان سے کہو ”تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت رسول آچکے ہیں جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکر کرتےہو ، پھر اگر (ایمان لانے کے لیے یہ شرط پیش کرنے میں) تم سچے ہو تو ان رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا؟“1

184

اب اے محمدؐ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے جا چکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے

185

آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کےروز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہےجو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔ 1

186

مسلمانو! تمہیں مال و جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی، اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دِہ باتیں سنو گے۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو1 تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے

187

ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سےلیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا، انھیں پوشیدہ رکھنا نہیں1 ہوگا۔ مگر انہوں نےکتاب کو پسِ پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا۔ کتنا بُرا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں

188

تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتُوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انھیں حاصل ہو جوفی الواقع انہوں نےنہیں کیے ہیں۔1 حقیقت میں ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے

189

زمین اور آسمان کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے

190

زمین1 اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ان ہوشمند لوگوں کےلیے بہت نشانیا ں ہیں

191

جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غورو فکر کرتے ہیں۔1 ( وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں)”پروردگار! یہ سب کچھ تُو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تُو پاک ہے اس سے کہ عبث کا م کرے۔ پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے ،2

192

تو نے جسے دوزخ میں ڈالا اسے در حقیقت بڑی ذلت و رسوائی میں ڈال دیا، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا

193

مالک! ہم نے ایک پکار نے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو۔ ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی،1 پس اے ہمارے آقا!جو قُصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں انھیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر

194

خدا وند! جو وعدے تُو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کیے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کےدن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال ، بے شک تُو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔“1

195

جواب میں ان کے رب نے فرمایا ”میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہو ں۔ خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔1 لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے ان کے سب قصور میں معاف کردوں گا اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کر دوں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہتر ین جزا اللہ ہی کے پاس ہے“۔ 2

196

اے نبیؐ! دنیا کے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے

197

یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے، پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے

198

برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ کی طرف سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لیے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لیے وہی سب سے بہتر ہے

199

اہل کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اوراُس کتاب پربھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا

200

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ،1 حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو ، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں