سورة الصف
باب 61 | 14 آیات
ترجمہ: فتح محمد جالندھری
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
Sabbaha lillaahi maa fisamaawaati wa maa fil ardi wa huwal 'Azeezul Hakeem
اللہ کی تسبیح کی ہے ہراُس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ
Yaa ayyuhal lazeena aamanoo lima taqooloona maa laa taf'aloon
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟
كَبُرَ مَقْتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُوا۟ مَا لَا تَفْعَلُونَ
Kabura maqtan 'indal laahi an taqooloo maa laa taf'aloon
اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔
إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِهِۦ صَفًّۭا كَأَنَّهُم بُنْيَٰنٌۭ مَّرْصُوصٌۭ
Innal laaha yuhibbul lazeena yuqaatiloona fee sabeelihee saffan kaannahum bunyaanum marsoos
اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اُس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِى وَقَد تَّعْلَمُونَ أَنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ ۖ فَلَمَّا زَاغُوٓا۟ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمْ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٰسِقِينَ
Wa iz qaala Moosa liqawmihee yaa qawmi lima tu'zoonanee wa qat ta'lamoona annee Rasoolul laahi ilaikum falammaa zaaghooo azaaghal laahu quloobahum; wallaahu laa yahdil qawmal faasiqeen
اور یاد کرو موسٰیؑ کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ”اے میری قوم کے لوگو ،تم کیوں مجھے اذیّت دیتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں؟“ پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے ، اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُولٍۢ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِى ٱسْمُهُۥٓ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ قَالُوا۟ هَٰذَا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ
Wa iz qaala 'Eesab-nu-Mayama yaa Banee Israaa'eela innee Rasoolul laahi ilaikum musaddiqal limaa baina yadayya minat Tawraati wa mubashshiram bi Rasooliny yaatee mim ba'dis muhooo Ahmad; falammaa jaaa'ahum bil baiyinaati qaaloo haazaa sihrum mubeen
اور یاد کرو عیسٰیؑ ابن مریمؑ کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ ”اے بنی اسرائیل ، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اُس توراة کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ مگر جب وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے۔
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَىٰٓ إِلَى ٱلْإِسْلَٰمِ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ
Wa man azlamu mimma nif taraa 'alal laahil kaziba wa huwa yad'aaa ilal Islaam; wallaahu laa yahdil qawmaz zaalimeen
اب بھلا اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جُھوٹے بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سرِ اطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جا رہی ہو؟ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا
يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَٰفِرُونَ
Yureedoona liyutfi'oo nooral laahi bi afwaahimim wallaahu mutimmu noorihee wa law karihal kaafiroon
یہ لوگ اپنے مُنہ کی پُھونکوں سے اللہ کے نُور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نُور کو پُورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ
Huwal lazee arsala Rasoolahoo bilhudaa wa deenil haqqi liyuzhirahoo 'alad deeni kullihee wa law karihal mushrikoon
وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اسے پُورے کے پُورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَٰرَةٍۢ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍۢ
Yaaa ayyuhal lazeena aammano hal adullukum 'alaa tijaaratin tunjeekum min 'azaabin aleem
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذابِ الیم سے بچا دے؟
تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
Tu'minoona billaahi wa Rasoolihee wa tujaahidoona fee sabeelil laahi bi amwaalikum wa anfusikum; zaalikum khairul lakum in kuntum ta'lamoon
ایمان لاؤ اللہ اور اُس کے رسُول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔
يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةًۭ فِى جَنَّٰتِ عَدْنٍۢ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
Yaghfir lakum zunoobakum wa yudkhilkum Jannaatin tajree min tahtihal anhaaru wa masaakina taiyibatan fee Jannaati 'Ad; zaalikal fawzul 'Azeem
اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرےگا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنّتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔
وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌۭ قَرِيبٌۭ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ
Wa ukhraa tuhibboonahaa nasrum minal laahi wa fat hun qaree; wa bashshiril mu 'mineen
اور وہ دُوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا، اللہ کی طرف سے نُصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح۔ اے نبیؐ ، اہل ایمان کو اِس کی بشارت دے دو
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوٓا۟ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّۦنَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ۖ فَـَٔامَنَت طَّآئِفَةٌۭ مِّنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٌۭ ۖ فَأَيَّدْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ عَلَىٰ عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا۟ ظَٰهِرِينَ
Yaaa ayyuhal lazeena aamaanoo koonooo ansaaral laahi kamaa qaala 'Eesab-nu-Maryama lil Hawaariyyeena man ansaareee ilal laah; qaalal Hawaariyyoona nahnu ansaa rul laahi fa aamanat taaa'ifatum mim Bannee Israaa'eela wa kafarat taaa'ifatun fa ayyadnal lazeena aammanoo 'alaa 'aduwwihim fa asbahoo zaahireen
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسٰیؑ ابنِ مریمؑ نے حواریوں کو خطاب کرکے کہا تھا: ”کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار“؟ اور حواریوں نے جواب دیا تھا:”ہم ہیں اللہ کے مددگار“ ۔ اُس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دُوسرے گروہ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی اُن کے دُشمنوں کےمقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے۔