Skip to main content

سورة الصافات

سورۃ As-Saffat - Those Who Set The Ranks

باب 37 | 182 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

قطار در قطار صف باندھنے والوں کی قسم

2

پھر اُن کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں

3

پھر اُن کی قسم جو کلامِ نصیحت سُنانے والے ہیں، 1

4

تمہارا معبُودِ حقیقی بس ایک ہی ہے 1

5

وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام اُن چیزوں کا  مالک ہے جو زمین  و آسمان میں ہیں ، اور سارے مشرقوں 1 کا مالک۔ 2

6

ہم نے آسمانِ 1 دُنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے

7

اور ہر شیطانِ سرکش سے اس کو محفوظ کر دیا ہے۔ 1

8

یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں

9

اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے

10

تا ہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اُڑے تو ایک تیز شُعلہ اس کا پیچھا  کرتا ہے۔ 1

11

اب اِن سے پوچھو، اِن کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟ 1 اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔ 2

12

تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر) حیران ہو اور یہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں

13

سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے

14

کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں

15

اورکہتے ہیں”یہ تو صریح جادُو ہے، 1

16

بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اُس وقت ہم پھر زندہ کر کے اٹھا کھڑے کیے جائیں؟

17

اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آبا و اجداد بھی اٹھائے جائیں گے؟"

18

اِن سے کہوہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں)بے بس ہو۔ 1

19

بس ایک ہی جھِڑکی ہوگی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے (وہ سب کچھ جس کی خبر دی جارہی ہے)دیکھ رہے ہوں گے۔ 1

20

اُس وقت یہ کہیں گے "ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے"

21

یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلا یا کرتے تھے۔“ 1

22

(حکم ہوگا)گھیر لاوٴ سب ظالموں 1 اور ان کے ساتھیوں 2 اور اُن کے معبُودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے 3

23

پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ

24

اور ذرا اِنہیں ٹھیراؤ، اِن سے کچھ پوچھنا ہے

25

"کیا ہو گیا تمہیں، اب کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟

26

ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں۔“ 1

27

اس کے بعد یہ ایک دوسرے کی طرف مڑیں گے اور باہم تکرار شروع کر دیں گے

28

(پیروی کرنے والے اپنے پیشواوٴں سے)کہیں گے،”تم ہمارے پاس سیدھے رُخ سے آتے تھے۔“ 1

29

وہ جواب دیں گے، "نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے

30

ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش لوگ تھے

31

آخرکار ہم اپنے رب کے اِس فرمان کے مستحق ہو گئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں

32

سو ہم نے تم کو بہکایا، ہم خود بہکے ہوئے تھے۔“ 1

33

اِس طرح وہ سب اُس روز عذاب میں مشترک ہوں گے۔ 1

34

ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں

35

یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا "اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے" تو یہ گھمنڈ میں آ جاتے تھے

36

اور کہتے تھے "کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟"

37

حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسُولوں کی تصدیق کی تھی۔ 1

38

(اب ان سے کہا جائے گا کہ) تم لازماً دردناک سزا کا مزا چکھنے والے ہو

39

اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جا رہا ہے اُنہی اعمال کا دیا جا رہا ہے جو تم کرتے رہے ہو

40

مگر اللہ کے چیدہ بندے (اس انجام بد سے) محفوظ ہوں گے

41

ان کے لیے جانا بوجھا رزق ہے، 1

42

ہر طرح  کی لذیذ چیزیں۔ 1

43

اور نعمت بھری جنتیں

44

جن میں وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے

45

شراب 1 کے چشموں 2 سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان پھرائے جائیں گے

46

چمکتی ہوئی شراب، جو پینے والوں کے لیے لذّت ہو گی

47

نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی۔ 1

48

اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی، 1 خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی، 2

49

ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھُپی ہوئی جھِلی۔ 1

50

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے

51

ان میں سے ایک کہے گا، "دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا

52

جو مجھ سے کہا کرتا تھا، کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟ 1

53

کیا واقعی جب ہم مر چکے ہوں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا و سزا دی جائے گی؟

54

اب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں؟"

55

یہ کہہ کر جونہی وہ جھکے گا تو جہنم کی گہرائی میں اس کو دیکھ لے گا

56

اور اس سے خطاب کر کے کہے گا "خدا کی قسم، تُو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا

57

میرے ربّ کا فضل شاملِ حال نہ ہوتا تو آج میں بھی  اُن لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں۔ 1

58

اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں؟

59

موت جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آچکی؟ اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونا؟“ 1

60

یقیناً یہی عظیم الشان کامیابی ہے

61

ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے

62

بولو، یہ ضیافت اچھی ہے یا  زقوم 1 کا درخت؟

63

ہم  نے اس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے۔ 1

64

وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے

65

اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ 1

66

جہنم کے لوگ اُسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

67

پھر اس پر پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ملے گا

68

اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتشِ دوزخ کی طرف ہوگی۔ 1

69

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا

70

اور اُنہی کے نقشِ قدم پر دوڑ چلے۔ 1

71

حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہو چکے تھے

72

اور اُن میں ہم نے تنبیہ کرنے والے رسول بھیجے تھے

73

اب دیکھ لو کہ اُن تنبیہ کیے جانے والوں کا کیا انجام ہوا

74

اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کر لیا ہے

75

ہم کو 1 (اس سے پہلے) نوحؑ نے پکارا تھا 2 ، تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے

76

ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے بچا لیا 1

77

اور اسی کی نسل کو باقی رکھا 1

78

اور بعد کی نسلوں میں اس کی تعریف و توصیف چھوڑ دی

79

سلام ہے نوحؑ پر تمام دینا والوں میں 1

80

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں

81

در حقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

82

پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کر دیا

83

اور نوحؑ ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیمؑ تھا

84

جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا 1

85

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا 1۔’’ یہ کیا چیزیں جن کے تم عبادت کر رہے ہو؟

86

کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟

87

آخر اللہ ربّ العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟‘‘ 1

88

پھر 1 اس نے تاروں پر ایک نگاہ ڈالی 2

89

اور کہا میری طبیعت خراب ہے 1

90

چنانچہ وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے 1

91

ان کے پیچھے وہ چپکے سے ان کے معبودوں کے مندر میں گھس گیا اور بولا ’’ آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں ہیں 1 ؟

92

کیا ہو گیا، آپ لوگ بولتے بھی نہیں؟"

93

اس کے بعد وہ اُن پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں

94

(واپس آ کر) وہ لوگ بھاگے بھاگے اس کے پاس آئے 1

95

اس نے کہا "کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو؟

96

حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اُن چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو"

97

انہوں نے آپس میں کہا "اس کے لیے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو"

98

انہوں نے اس کے خلاف ایک کار روائی کرنی چاہی تھی، مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا 1

99

ابراہیمؑ نے کہا 1 ’’میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں 2 ، وہی میری رہنمائی کرے گا

100

اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو‘‘ 1

101

(اس دعا کے جواب میں) ہم نے اس کو ایک حلیم(بردبار) لڑکے کی بشارت دی 1

102

وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا،’’بیٹا ، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں 1 ، اب تو بتا تیرا کیا خیال ہے ؟ 2 اس نے کہا، ’’ ابا جان ، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے 3 اسے کر ڈالیے ، آپ اِنْشاءَ اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے ‘‘

103

آخر کو جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا 1

104

اور ہم نے ندا دی 1 کہ ’’ اے ابراہیمؑ

105

تو نے خواب سچ کر دکھایا 1۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں 2

106

یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی‘‘ 1

107

اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا 1

108

اور اس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی

109

سلام ہے ابراہیمؑ پر

110

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

111

یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

112

اور ہم نے اسے اسحاقؑ کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے

113

اور اسے اور اسحاق کو برکت دی 1۔اب ان دونوں کی ذریّت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے 2

114

اور ہم نے موسیٰؑ و ہارونؑ پر احسان کیا

115

اُن کو اور ان کی قوم کو کربِ عظیم سے نجات دی، 1

116

اُنہیں نصرت بخشی جس کی وجہ سے وہی غالب رہے

117

ان کو نہایت واضح کتاب عطا کی

118

انہیں راہ راست دکھائی

119

اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا

120

سلام ہے موسیٰؑ اور ہارونؑ پر

121

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

122

در حقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

123

اور الیاسؑ بھی یقیناً مُرسَلین میں سے تھا۔ 1

124

یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ "تم لوگ ڈرتے نہیں ہو؟

125

کیا تم بعل 1 کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتےہو

126

اُس اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے پچھلے آبا و اجداد کا رب ہے؟"

127

مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا، سو اب یقیناً وہ سزا کے لیے پیش کیے جانے والے ہیں

128

بجز اُن بندگانِ خدا کے جن کو خالص کر لیا گیا تھا۔ 1

129

اور الیاسؑ کا ذکر خیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا1

130

سلام ہے الیاسؑ پر۔ 1

131

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

132

واقعی وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

133

اور لوطؑ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

134

یاد کرو جب ہم نے اس کو اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی

135

سوائے ایک بُڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔ 1

136

پھر باقی سب کو تہس نہس کر دیا

137

آج تم شب و روز اُن کے اُجڑے دیا ر پر سے گزرتے ہو۔ 1

138

کیا تم کو عقل نہیں آتی؟

139

اور یقیناً یُونسؑ بھی رسُولوں میں سے تھا۔ 1

140

یاد کرو جب وہ ایک بھر ی کشتی کی طرف بھاگ نکلا، 1

141

پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی

142

آخرکار مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا

143

اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا 1

144

تو روزِ قیامت تک اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا۔ 1

145

آخر کار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین میں پھینک دیا۔ 1

146

اور اُس پر ایک بیلدار درخت 1 اُگا دیا

147

اس کے بعد ہم نے اُسے ایک لاکھ، یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا، 1

148

وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک وقتِ خاص تک انہیں باقی رکھا۔ 1

149

پھر ذرا اِن لوگوں سے پوچھو، 1 کیا (اِن کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ)تمہارے ربّ کے لیے توہوں بیٹیاں اور اِن کے لیے ہوں بیٹے! 2

150

کیا واقعی ہم نے ملائکہ کو عورتیں ہی بنا یا ہے اور یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں؟

151

خوب سن رکھو، دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں

152

کہ اللہ اولاد رکھتا ہے، اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں

153

کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لیے پسند کر لیں؟

154

تمہیں کیا ہو گیا ہے، کیسے حکم لگا رہے ہو

155

کیا تمہیں ہوش نہیں آتا

156

یا پھر تمہارے پاس اپنی ان باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے

157

تو لاوٴ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو۔ 1

158

اِنہوں نے اللہ اور ملائکہ 1 کے درمیان نسب کا رشتہ بنا رکھا ہے، حالانکہ ملائکہ خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ مُجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں

159

(اور وہ کہتے ہیں کہ) "اللہ اُن صفات سے پاک ہے

160

جو اُس کے خالص بندوں کے سوا دوسرے لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں

161

پس تم اور تمہارے یہ معبود

162

اللہ سے کسی کو پھیر نہیں سکتے

163

مگر صرف اُس کو جو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھُلسنے والا ہو۔ 1

164

اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے، 1

165

اور ہم صف بستہ خدمت گار ہیں

166

اور تسبیح کرنے والے ہیں"

167

یہ لوگ پہلے تو کہا کرتے تھے

168

کہ کاش ہمارے پاس وہ "ذکر" ہوتا جو پچھلی قوموں کو ملا تھا

169

تو  ہم اللہ کے چیدہ بندے ہوتے۔ 1

170

مگر (جب وہ آ گیا) تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا اب عنقریب اِنہیں (اِس روش کا نتیجہ) معلوم ہو جائے گا

171

اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں

172

کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی

173

اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا۔ 1

174

پس اے نبیؐ، ذرا کچھ مدّت تک انہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو

175

اور دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے 1

176

کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟

177

جب وہ اِن کے صحن میں آ اترے گا تو وہ دن اُن لوگوں کے لیے بہت برا ہو گا جنہیں متنبہ کیا جا چکا ہے

178

بس ذرا اِنہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دو

179

اور دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود دیکھ لیں گے

180

پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں

181

اور سلام ہے مرسلین پر

182

اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں