سورة إبراهيم
باب 14 | 52 آیات
ترجمہ: فتح محمد جالندھری
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
الٓر ۚ كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ
Alif-Laaam-Raa; Kitaabun anzalnaahu ilaika litukhrijan-naasa minaz zulumaati ilan noori bi-izni Rabbihim ilaa siraatil 'Azeezil Hameed
ا۔ل۔ر، اے محمد ؐ ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاوٴ، ان کے ربّ کی توفیق سے، اُس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمُود ہے
ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَوَيْلٌۭ لِّلْكَٰفِرِينَ مِنْ عَذَابٍۢ شَدِيدٍ
Allaahil lazee lahoo maa fis samaawaati wa maa fill ard; wa wailul lilkaafireena min 'azaabin shadeed
اور زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لیے
ٱلَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْءَاخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ضَلَٰلٍۭ بَعِيدٍۢ
Allazeena yastahibboo nal hayaatad dunyaa 'alal aakhirati wa yasuddoona 'ansabeelil laahi wa yabghoonahaa 'iwajaa; ulaaa 'ika fee dalaalim ba'eed
جو دُنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق)ٹیڑھا ہو جائے۔ یہ لوگ گمراہی میں بہت دُور نکل گئے ہیں
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
Wa maaa arsalnaa mir Rasoolin illaa bilisaani qawmihee liyubaiyina lahum faiudillul laahu mai yashaaa'u wa yahde mai yashaaa'; wa Huwal 'Azeezul Hakeem
ہم نے اپنا پیغام دینے کےلیے جب کبھی کوئی رسوُل بھیجا ہے، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ اُنہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے، وہ بالادست اور حکیم ہے۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّكُلِّ صَبَّارٍۢ شَكُورٍۢ
Wa laqad arsalnaa Moosaa bi Aayaatinaa an akhrij qawmaka minaz zulumaati ilan noori wa zak kirhum bi ayyaamil laah; inna fee zaalika la aayaatil likulli sabbaarin shakoor
ہم اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں۔ اُسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخِ الٰہی کے سبق آموز واقعات سُنا کر نصیحت کر۔ اِن واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنجَىٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ
Wa iz qaala Moosaa liqawmihiz kuroo ni'matal laahi 'alaikum iz anjaakum min Aali Fir'awna yasoomoo nakum sooo'al 'azaabi wa yuzabbihoona abnaaa'akum wa yastahyoona nisaaa'akum; wa fee zaalikum balaaa'um mir Rabbikum 'azeem
یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِى لَشَدِيدٌۭ
Wa iz ta azzana Rabbukum la'in shakartum la azeedannakum wa la'in kafartum inn'azaabee lashadeed
اور یاد رکھو، تمہارے ربّ نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کُفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔“
وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِن تَكْفُرُوٓا۟ أَنتُمْ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ
Wa qaala Moosaaa in takfurooo antum wa man fil ardi jamee'an fa innal laaha la Ghaniyyun Hameed
اور موسیٰؑ ”اگر تم کُفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہو جائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔“
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍۢ وَعَادٍۢ وَثَمُودَ ۛ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فِىٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ
Alam yaatikum naba'ul lazeena min qablikum qawmi Noohinw wa 'Aadinw wa Samood, wallazeena mim ba'dihim; laa ya'lamuhum illallaah; jaaa'at hum Rusuluhum bilbaiyinaati faraddooo aydiyahum feee afwaahihim wa qaalooo innaa kafarnaa bimaaa ursiltum bihee wa innaa lafee shakkim mimmaa tad'oonanaaa ilaihi mureeb
کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قومِ نوح ؑ ، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھُلی کھُلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ”جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔“
۞ قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِى ٱللَّهِ شَكٌّۭ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ قَالُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَٰنٍۢ مُّبِينٍۢ
Qaalat Rusuluhum afillaahi shakkun faatiris samaawaati wal ardi yad'ookum liyaghfira lakum min zunoobikum wa yu'akhkhirakum ilaaa ajalim musam maa; qaaloo in antum illaa basharum mislunaa tureedoona an tasuddoonaa 'ammaa kaana ya'budu aabaaa'unaa faatoonaa bisul taanim mubeen
اُن کے رسوُلوں نے کہا”کیا خُدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بُلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدُتِ مقرر تک مہلت دے۔“ انہوں نے جواب دیا ”تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔ تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ اچھا تو لاوٴ کوئی صریح سَنَد۔“
قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَٰنٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ
Qaalat lahum Rusuluhum in nahnu illaa basharum mislukum wa laakinnal laaha yamunnu 'alaa mai yashaaa'u min 'ibaadihee wa maa kaana lanaaa an naatiyakum bisul taanin illaa bi iznil laah; wa 'alal laahi falyatawakkalil mu'minonn
ان کے رسولوں نے ان سے کہا”واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہےکہ تمہیں کوئی سَنَد لا دیں۔ سَنَد تو اللہ ہی کے اِذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہلِ ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے
وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ
Wa maa lanaa allaa natawakkala 'alal laahi wa qad hadaanaa subulanaa; wa lanasbiranna 'alaa maaa aazaitumoonaa; wa 'alal laahi falyatawakkalil mutawakkiloon
اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے"
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰٓ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ
Wa qaalal lazeena kafaroo li Rusulihim lanukhrijanna kum min aardinaaa aw lata'oo dunna fee millatinaa fa awhaaa ilaihim Rabbuhum lanuhlikannaz zalimeen
آخرِ کار منکرین نے اپنے رسُولوں سے کہہ دیا کہ ”یا تو تمہیں ہماری ملّت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔“ تب اُن کے ربّ نے اُن پر وحی بھیجی کہ ”ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے
وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِى وَخَافَ وَعِيدِ
Wa lanuskinan nakumul arda mim ba'dihim; zaalika liman khaafa maqaamee wa khaafa wa'eed
اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔ یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضُور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو۔“
وَٱسْتَفْتَحُوا۟ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍۢ
Wastaftahoo wa khaaba kullu jabbaarin 'aneed
اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یُوں اُن کا فیصلہ ہوا)اور ہر جبّاردشمن ِ حق نے منہ کی کھائی۔
مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِن مَّآءٍۢ صَدِيدٍۢ
Minw waraaa'ihee jahannamu wa yusqaa mim maaa'in sadeed
پھر اس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے وہاں اُسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا
يَتَجَرَّعُهُۥ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ وَيَأْتِيهِ ٱلْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍۢ ۖ وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٌۭ
Yatajarra'uhoo wa laa yakaadu yuseeghuhoo wa yaateehil mawtu min kulli makaaninw wa maa huwa bimaiyitinw wa minw waraaa'ihee 'azaabun ghaleez
جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ أَعْمَٰلُهُمْ كَرَمَادٍ ٱشْتَدَّتْ بِهِ ٱلرِّيحُ فِى يَوْمٍ عَاصِفٍۢ ۖ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا۟ عَلَىٰ شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلْبَعِيدُ
Masalul lazeena kafaroo bi Rabbihim a'maaluhum karamaadinish taddat bihir reehu fee yawmin 'aasif; laa yaqdiroona mimmaa kasaboo 'alaa shai'; zaalika huwad dalaalul ba'eed
جن لوگوں نے اپنے ربّ سے کُفر کیا ہے اُن کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اُڑا دیا ہو۔ وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے۔ یہی پرلے درجے کی گُم گشتگی ہے
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍۢ جَدِيدٍۢ
Alam tara annal laaha khalaqas samaawaati wal arda bilhaqq; iny yashaa yuzhibkum wa yaati bikhalqin jadeed
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے
وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٍۢ
Wa maa zaalika 'alal laahi bi 'azeez
ایسا کرنا اُس پر کچھ بھی دُشوار نہیں ہے۔
وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَمِيعًۭا فَقَالَ ٱلضُّعَفَٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًۭا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيْنَٰكُمْ ۖ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍۢ
Wa barazoo lillaahi jamee'an faqaalad du'afaaa'u lillazeenas takbarooo innaa kunnaa lakum taba'an fahal antum mughnoona 'annaa min 'azaabil laahi min shai'; qaaloo law hadaanal laahu lahadai naakum sawaaa'un 'alainaaa ajazi'naa am sabarnaa maa lanaa mim mahees
اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنےبے نقاب ہوں گے تو اُس وقت ان میں جو دُنیا میں کمزور تھے وہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے”دُنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کر سکتے ہو؟“ وہ جواب دیں گے”اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزَع فزَع کریں یا صبر، بہر حال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔“
وَقَالَ ٱلشَّيْطَٰنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلْأَمْرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُمْ فَٱسْتَجَبْتُمْ لِى ۖ فَلَا تَلُومُونِى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُم ۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ أَنتُم بِمُصْرِخِىَّ ۖ إِنِّى كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
Wa qaalash Shaitaanu lammaa qudiyal amru innal laaha wa'adakum wa'dal haqqi wa wa'attukum faakhlaftukum wa maa kaana liya 'alaikum min sultaanin illaaa an da'awtukum fastajabtum lee falaa taloomoonee wa loomooo anfusakum maaa ana bimusrikhikum wa maaa antum bimusrikhiyya innee kafartu bimaaa ashraktumooni min qabl; innaz zaalimeena lahum azaabun aleem
اور جب فیصلہ چُکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا ”حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے اُن میں سے کوئی بھی پُورا نہ کیا ، میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبّیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری۔اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اُس سے بری الذّمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے تو دردناک سزا یقینی ہے۔“
وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌ
Wa udkhilal lazeena aamanoo wa 'amilus saalihaati Jannaatin tajree min tahtihal anhaaru khaalideena feehaa bi izni Rabbihim tahiyyatuhum feeha salaam
بخلاف اس کے جو لوگ دُنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں وہ اپنے ربّ کے اِذن سے ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں اُن کا استقبال سلامتی کی مبارکباد سے ہوگا۔
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا كَلِمَةًۭ طَيِّبَةًۭ كَشَجَرَةٍۢ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌۭ وَفَرْعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ
Alam tara kaifa darabal laahu masalan kalimatan taiyibatan kashajaratin taiyibatin asluhaa saabitunw wa far'uhaa fis samaaa'
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہٴ طیّبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اِس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمّی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں
تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
Tu'teee ukulahaa kulla heenim bi izni Rabbihaa; wa yadribul laahul amsaala linnaasi la'allahum yatazak karoon
ہر آن وہ اپنے ربّ کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اِس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں
وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍۢ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍۢ
Wa masalu kalimatin khabeesatin kashajaratin khabee satinij tussat min fawqil ardi maa lahaa min qaraar
اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اُکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے۔
يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ
Yusabbitul laahul lazeena aamanoo bilqawlis saabiti fil hayaatid dunyaa wa fil Aakhirati wa yudillul laahuz zaalimeen; wa yaf'alul laahu maa yashaaa'
ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قولِ ثابت کی بنیاد پر دُنیا اور آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے
۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرًۭا وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ
Alam tara ilal lazeena baddaloo ni'matal laahi kufranw wa ahalloo qawmahum daaral bawaar
تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اُسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ
Jahannama yaslawnahaa wa bi'sal qaraar
یعنی جہنم، جس میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بد ترین جائے قرار ہے
وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًۭا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى ٱلنَّارِ
Wa ja'aloo lillaahi andaadal liyudilloo 'an sabeelih; qul tamatta'oo fa innaa maseerakum ilan Naar
اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں اِن سے کہو، اچھا مزے کر لو، آخرکار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے
قُل لِّعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ سِرًّۭا وَعَلَانِيَةًۭ مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا بَيْعٌۭ فِيهِ وَلَا خِلَٰلٌ
Qul li'ibaadiyal lazeena aamanoo yuqeemus Salaata wa yunfiqoo mimmaa razaqnaahum sirranw wa 'alaaniyatam min qabli any yaatiya Yawmul laa bai'un feehi wa laa khilaal
اے نبی ؐ ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اُس میں سے کھُلے اور چھُپے(راہِ خیرمیں)خرچ کریں قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی اور نہ دوست نوازی ہو سکے گی۔
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزْقًۭا لَّكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْفُلْكَ لِتَجْرِىَ فِى ٱلْبَحْرِ بِأَمْرِهِۦ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْأَنْهَٰرَ
Allaahul lazee khalaqas samaawaati wal arda wa anzala minas samaaa'i maaa'an faakhraja bihee minas samaraati rizqal lakum wa sakhkhara lakumul fulka litajriya fil bahri bi amrihee wa sakhkhara lakumul anhaar
اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے۔ جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخّر کیا کہ سمندر میں اُس کے حکم سے چلے اور دریاوٴں کو تمہارے لیے مسخّر کیا
وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ دَآئِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ
Wa sakhkhara lakumush shamsa walqamara daaa'ibaini wa sakhkhara lakumul laila wannahaar
جس نے سُورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخّر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخّر کیا۔
وَءَاتَىٰكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ ۗ إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لَظَلُومٌۭ كَفَّارٌۭ
Wa aataakum min kulli maa sa altumooh; wa in ta'uddoo ni'matal laahi laa tuhsoohaa; innal insaana lazaloo mun kaffaar
جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے
وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَٰذَا ٱلْبَلَدَ ءَامِنًۭا وَٱجْنُبْنِى وَبَنِىَّ أَن نَّعْبُدَ ٱلْأَصْنَامَ
Wa iz qaala Ibraaheemu Rabbij 'al haazal balada aaminanw wajnubnee wa baniyya an na'budal asnaam
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے دُعا کی تھی کہ”پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بُت پرستی سے بچا
رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِى فَإِنَّهُۥ مِنِّى ۖ وَمَنْ عَصَانِى فَإِنَّكَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
Rabbi innahunna adlalna kaseeram minan naasi faman tabi'anee fa innahoo minnee wa man 'asaanee fa innaka Ghafoorur Raheem
پروردگار ، اِن بُتوں نے بہتوں کو گُمراہی میں ڈالا ہے(ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گُمراہ کر دیں، لہٰذا اُن میں سے)جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تُو درگزر کرنے والا مہربان ہے۔
رَّبَّنَآ إِنِّىٓ أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِى بِوَادٍ غَيْرِ ذِى زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ ٱلْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجْعَلْ أَفْـِٔدَةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهْوِىٓ إِلَيْهِمْ وَٱرْزُقْهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ
Rabbanaaa inneee askantu min zurriyyatee biwaadin ghairi zee zar'in 'inda Baitikal Muharrami Rabbanaa liyuqeemus Salaata faj'al af'idatam minan naasi tahweee ilaihim warzuqhum minas samaraati la'allahum yashkuroon
پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پرو��دگار، یہ میں نے اِس لیے کیا ہےکہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تُو لوگوں کے دِلوں کو اِن کا مشتاق بنااور انہیں کھانے کو پھل دے ، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں
رَبَّنَآ إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِى وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ
Rabbanaaa innaka ta'lamu maa nukhfee wa maa nu'lin; wa maa yakhfaa 'alal laahi min shai'in fil ardi wa laa fis samaaa'
پروردگار، تُو جانتا ہے جو کچھ ہم چھُپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں“۔۔۔۔ اور واقعی اللہ سے کچھ بھی چھُپا ہوا نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى وَهَبَ لِى عَلَى ٱلْكِبَرِ إِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ ۚ إِنَّ رَبِّى لَسَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ
Alhamdu lillaahil lazee wahaba lee 'alal kibari Ismaa'eela wa Ishaaq; inna Rabbee lasamee'ud du'aaa
"شکر ہے اُس خدا کا جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسماعیلؑ اور اسحاقؑ جیسے بیٹے دیے، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے
رَبِّ ٱجْعَلْنِى مُقِيمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ
Rabbij 'alnee muqeemas Salaati wa min zurriyyatee Rabbanaa wa taqabbal du'aaa'
ا ے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں) پروردگار، میری دعا قبول کر
رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ
Rabbanagh fir lee wa liwaalidaiya wa lilmu'mineena Yawma yaqoomul hisaab
پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اُس دن معاف کر دیجیو جب کہ حساب قائم ہوگا۔“
وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍۢ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَٰرُ
Wa laa tahsabannal laaha ghaafilan 'ammaa ya'maluz zaalimoon; innamaa yu'akh khiruhum li Yawmin tashkhasu feehil absaar
اب یہ ظالم لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو اللہ تو اِنہیں ٹال رہا ہے اُس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں
مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌۭ
Muhti'eena muqni'ee ru'oosihim laa yartaddu ilaihim tarfuhum wa af'idatuhum hawaaa'
سر اُٹھائے بھاگے چلے جارہے ہیں، نظریں اُوپر جمی ہیں اور دل اُڑے جاتے ہیں
وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ ٱلْعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍۢ
Wa anzirin naasa Yawma yaateehimul 'azaabu fa yaqoolul lazeena zalamoo Rabbanaaa akhkhirnaaa ilaaa ajalin qareebin nujib da'wataka wa nattabi 'ir Rusul; awalam takoonooo aqsamtum min qablu maa lakum min zawaal
اے محمدؐ، اُس دن سے تم اِنہیں ڈراؤ جبکہ عذاب اِنہیں آلے گا اُس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے" (مگر انہیں صاف جواب دے دیا جائے گا کہ) کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اِس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟
وَسَكَنتُمْ فِى مَسَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ
Wa sakantum fee masaakinil lazeena zalamooo anfusahum wa tabaiyana lakum kaifa fa'alnaa bihim wa darabnaa lakumul amsaal
حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے اُن سے کیا سلوک کیا اور اُن کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے
وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُمْ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ
Wa qad makaroo makrahum wa 'indal laahi makruhum wa in kaana makruhum litazoola minhul jibaal
اُنہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ اُن کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں۔
فَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍۢ
Falaa tahsabannal laaha mukhlifa wa'dihee Rusulah; innal laaha 'azeezun zuntiqaam
پس اے نبی ؐ ، تم ہر گز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسُولوں سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف کرے گا۔ اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے
يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْضُ غَيْرَ ٱلْأَرْضِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ ۖ وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ
Yawma tubaddalul ardu ghairal ardi wassamaawaatu wa barazoo lillaahil Waahidil Qahhaar
ڈراوٴ انہیں اُس دن سے جب کہ زمین اور آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کر دیے جائیں گے اور سب کے سب اللہ واحد قہّار کے سامنے بے نقاب حاضر ہو جائیں گے
وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍۢ مُّقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ
Wa taral mujrimeena Yawma 'izim muqarraneena filasfaad
اُس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پاؤں جکڑے ہونگے
سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍۢ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ
Saraabeeluhum min qatiraaninw wa taghshaa wujoohahumun Naar
تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے اُن کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے
لِيَجْزِىَ ٱللَّهُ كُلَّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ
Liyajziyal laahu kulla nafsim maa kasabat; innal laaha saree'ul hisaab
یہ اِس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا اللہ کوحساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی
هَٰذَا بَلَٰغٌۭ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا۟ بِهِۦ وَلِيَعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ وَلِيَذَّكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ
Haaza balaaghul linnaasi wa liyunzaroo bihee wa liya'lamooo annamaa Huwa Illaahunw Waahidunw wa liyaz zakkara ulul albaab
یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ بھیجا گیا ہے اس لیے کہ اُن کو اِس کے ذریعہ سے خبردار کر دیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آ جائیں