Skip to main content

سورة القمر

سورۃ Al-Qamar - The Moon

باب 54 | 55 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ 1

2

مگر اِن لوگوں کا حال یہ ہے خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ 1

3

اِنہوں نے (اس کو بھی) جھٹلادیا اور اپنی خواہشاتِ نفس ہی کی پیروی کی۔ 1 ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔ 2

4

اِن لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے) وہ حالات آ چکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامان عبرت ہے

5

اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات اِن پر کارگر نہیں ہوتیں

6

پس اے نبیؐ ،  اِن سے رُخ پھیر لو۔ 1 جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار 2 چیز کی طرف پکارے گا

7

لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ 1 اپنی قبروں سے 2 اِس طرح نکلیں گے  گویا وہ بکھری ہوئی ٹِڈیاں ہیں

8

پکارنے والے کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے اور وہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اُس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہے

9

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے۔ 1 اُنہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور وہ بری طرح جِھڑکا گیا۔ 2

10

آخر کار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ "میں مغلوب ہو چکا، اب تو اِن سے انتقام لے"

11

تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا، 1

12

اور یہ سارا پانی اُس کام کو پورا کرنے لیے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا

13

اور نوح ؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی 1 پر سوار کر دیا

14

جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ تھا بدلہ اُس شخص کی خاطر جس کی ناقدری  کی گئی تھی۔ 1

15

اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دی 1 ا، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟

16

دیکھ لو، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات

17

ہم نےاِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، 1 پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

18

عاد نے جھٹلایا، تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات

19

ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن 1 سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اُٹھا اُٹھا کر اِس طرح پھینک رہی تھی

20

جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں

21

پس دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات

22

ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

23

ثمود نے تنبیہات کو جھٹلایا

24

اور کہنے لگے”ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ 1 اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں  تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے

25

کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا؟ نہیں، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے"

26

(ہم نے اپنے پیغمبر سے کہا) "کل ہی اِنہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے

27

ہم اونٹنی کو اِن کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کہ اِن کا کیا انجام ہوتا ہے

28

اِن کو جتا دے کہ پانی اِن کے اور اُونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔“ 1

29

آخر کار اُن لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اُس نے اِس کا م کا بیڑا اُٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔ 1

30

پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات

31

ہم نےاُن پر  بس ایک ہی دھماکہ چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بُھس  ہو کر رہ گئے۔ 1

32

ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

33

لوطؑ کی قوم نے تنبیہات کو جھٹلایا

34

اور ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا اس پر بھیج دی صرف لوطؑ کے گھر والے اُس سے محفوظ رہے

35

اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے

36

لوطؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے

37

پھر انہوں نے اُسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخر کار ہم نے اُن کی آنکھیں مونددیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزا۔ 1

38

صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آ لیا

39

چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میری تنبیہات کا

40

ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

41

اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئی تھیں

42

مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے

43

کیا تمہارے کُفّار کچھ اُن لوگوں سے بہتر ہیں؟ 1 یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟

44

یا اِن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچاؤ کر لیں گے؟

45

عنقریب یہ جتّھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں  گے۔ 1

46

بلکہ اِن سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے

47

یہ مجرم لوگ در حقیقت غلط فہمی میں میں مبتلا ہیں اور اِن کی عقل ماری گئی ہے

48

جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا

49

ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے، 1

50

اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آجاتا ہے۔ 1

51

تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں، 1 پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

52

جو کچھ اِنہوں نے کیا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے

53

اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ 1

54

نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقیناً باغوں اور نہروں میں ہوں گے

55

سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں